بنگلورو،3؍اکتوبر(ایس او نیوز) ریاستی ہائی کورٹ کے جج جسٹس جینت پٹیل جن کا شمار چیف جسٹس ایس کے مکھرجی کے بعد سب سے سینئر جج کے طور پر کیاجاتا رہا۔ مرکزی حکومت کی طرف سے ان کے اچانک تبادلہ پر ریاست کی قانونی برابر سخت برہم ہے۔اچانک جینت پٹیل کو جو رواں ماہ چیف جسٹس کے عہدہ پر ترقی پانے والے تھے ، مرکزی حکومت کی طرف سے نشانہ بنایا گیا اور انہیں الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کردیاگیا، جہاں وہ تیسرے جج کے طور پر خدمات انجام دے سکتے تھے، لیکن مرکزی حکومت کے اس اقدام پر احتجاج کرتے ہوئے جسٹس جینت پٹیل نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیاتھا۔ عدلیہ کے امور میں مرکزی حکومت کی اس بے جا مداخلت کی سخت مذمت کیلئے کل ریاست بھر کی عدالتوں نے کارروائیوں کو ایک دن کیلئے بند کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست بھر میں تمام عدالتوں میں بار اسوسی ایشنوں نے اس فیصلے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بنگلور اڈوکیٹ اسوسی ایشن کی آواز پر کل و کیلوں نے سپریم کورٹ کے کالجیم کے یکطرفہ فیصلے کی مذمت کیلئے عدالتوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ آج اسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بتایاکہ جسٹس جینت پٹیل نے بحیثیت جج کرناٹک ہائی کورٹ میں بہترین خدمات انجام دی ہیں۔ موجودہ چیف جسٹس ایس کے مکھرجی چونکہ عنقریب ریٹائر ہونے والے ہیں ان کی جگہ پر جسٹس جینت پٹیل کو نگران چیف جسٹس کے عہدہ کیلئے موزوں ترین سمجھا جارہاتھا، تاہم سپریم کورٹ کے کولیجیم نے جسٹس جینت پٹیل کو کرناٹک ہائی کورٹ سے ہٹاکر الہ آباد ہائی کورٹ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جوکہ ان پر سراسر زیادتی ہے۔ ان وکیلوں نے بتایاکہ جسٹس جینت پٹیل کے تبادلہ کے ذریعہ مرکزی حکومت نے ان کی صلاحیتوں کے مقابل ان کو ترقی دینے کی بجائے ان کا ڈی موشن کیا ہے۔بنگلور اڈوکیٹ اسوسی ایشن کے چیرمین ایچ سی شیورام نے آج ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کے کالجیم نے جو موقف اپنایا ہے اس سلسلے میں ریاست بھر کے وکلاء سخت ناراض ہیں۔ اس ناراضگی کے اظہار کیلئے کل نہ صرف بنگلور بلکہ ریاست کے تمام اضلاع میں عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کرکے مرکز کے فیصلے کی سخت مذمت کی جائے گی۔ بنگلور اڈوکیٹ اسوسی ایشن کے صدر شیورام نے آج ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کے کالجیم میں جسٹس جینت پٹیل کے معاملہ میں سوتیلا رویہ اپنایا ہے، فو ری طور پر اس فیصلے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی ہائی کورٹ میں ججوں کی مجموعی اسامیاں 62ہیں لیکن ان میں سے صرف 25 ججس ہی ہائی کورٹ میں کام کررہے ہیں۔ سینئر ججوں کی سبکدوشی کی وجہ سے پہلے ہی ججوں کی قلت درپیش ہے، تاہم سپریم کورٹ کے کالجیم نے جسٹس جینت پٹیل کا تبادلہ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے جو موقف اپنایا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ اس موقع پر اوڈکیٹس اسوسی ایشن کے دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔